Where raw pens are ready to leave an impact on thoughts. And Young Pens interested in literature, social issues and politics are welcomed to be part of us.
I, Adnan Aslam, venturing with my energetic co-author- Iram Sidiquee- on this blog. Ali Zain, Urdu writer, and Choudary Qasim also joined us with their raw passions to nurture. Thanks
The question-- why does UN not implement its Kashmir related resolutions?-- haunt every Kashmiri and Pakistani.The answer lies in the fact, India approached UN in 1948 and resolution passed under the chapter 6 of UN charter. This particular chapter deals with peaceful settlement of disputes under the consensus of involved parties, and is not enforced by UN executive body- security council. The resolutions are enforced only under the chapter 7 of UN charter. Keeping it aside, Pakistan and India both are in adamant denial about fulfilling the pre-requisites of plebiscite as per resolution 47. Aforementioned circumstances limit the role of UN to enforce its resolutions and obligations towards seven decade long dispute. Similarly, Pakistan does not have a principle stance about Kashmir solution: either it want UN involvement or a win-win solution based on bilateral agreements or third party mediation.however, India has remained a status quo force in Kashmir dispute and re...
پاکستانی خواتین کی طاقت 🖋 علی زین مہدی چند روز قبل میں اپنے گھر کی چھت پہ موسم کی رنگینی کا لطف اٹھا رہا تھا ٹھنڈی ہوا کے جھونکے فرحت بخش تھے اور میں سوچوں کی گہری موجوں میں غوطہ زن تھا کہ اچانک موبائل پر رنگ ہوئی اور ایک دوست کا مزاح بھرا لطیفہ میسج کی شکل میں موصول ہوا اس میں لکھا تھا کہ * یورپ، چائنہ اور کوریا وغیرہ کی لڑکیاں سانپ ہاتھوں سے پکڑتی ہیں اور ہماری نمونیاں چھپکلی اور کاکروچ سے بھی ڈر جاتی ہیں * کافی ہنسا اور ریپلائی بھی کردیا، تھوڑی دیر بعد نیچے کچن میں سے بڑی بہنا کی چیخ سنائی دی میں جھٹ پٹ دوڑا اور نیچے پہنچا تو ان کی چیخیں اب * کاکروچ کاکروچ * میں بدل گئی تھیں کچن میں گیا، کاکروچ مارا، اور بہن پر ہنسنے لگا ہنستے ہنستے ان پہ نظر پڑی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، ناراضگی دکھائے روم میں چلی گئیں، یہ بات جانتے ہوئے کہ میں نے کچھ دیر بعد انہیں منانے آجانا ہے اور معمول کے مطابق میں انہیں منانے بھی گیا کچھ لے دے کر معاملہ سلجھایا گیا، بہن تھی راضی نامہ تو رشوت دینے سے ہی ہونا تھا، رشوت دی، روم سے باہر نکلتے وقت میں ن...
ترکی کا شام پر حملہ ہم نے دنیا کے امن کے لیے اپنے جوان مروائے ہیں اور اب دنیا نے ہمیں ایک خونخوار دشمن کے سامنے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ دنیا نے ہمیں اچھا صلہ نہیں دیا ہے۔ یہ کہنا تھا کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی PYD کے رہنما صالح مسلم کی زوجہ عائشہ آفندی کا۔ عائشہ آفندی کا مزید کہنا تھا کہ اردگان کا ہدف سیف زون بنانا ہے نہ شام کے مہاجرین کی آبادکاری بلکہ اردگان کا ہدف کُردوں کی نسل کشی ہے۔ عائشہ آفندی کے بقول اردگان شام کے کُردوں کا قتل عام کرنا چاہتا ہے صرف اس بہانے پر کہ علیحدگی پسند عسکری کُرد جماعت PKK ترکی کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے جبکہ PKK کا شام کے کُرد علاقوں میں کوئی وجود نہیں ہے۔ عائشہ آفندی کے بقول اردگان کے سر پر خلافت عثمانیہ کے احیاء کا بھوت سوار ہے جس کی خاطر وہ ترکی کی سرحدوں کی توسیع چاہتا اور اس راستے میں کُرد قوم ایک بڑی رکاوٹ ہے لہذا وہ کُردوں کو راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ عائشہ آفندی نے ترک جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا تسلیم ہونا کُردوں کی سرشت میں شامل نہیں ہے ہم آخری سانس تک ترکوں سے لڑیں گے۔ کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے عسکری ونگ YPJ کی خواتین...
Comments
Post a Comment